कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آزادیٔ ہند اور حالتِ حاضرہ

تحریر: ابو خالد

ہندوستان میں انگریزوں کی آمد اور اقتدار کا قیام:
ہندوستان میں انگریز تاجروں کی حیثیت سے سولہویں صدی کے اوائل میں آئے۔ 1600ء میں ملکہ الزبتھ نے "ایسٹ انڈیا کمپنی” کو ہندوستان میں تجارت کا پروانہ دیا۔ یہ تاجر رفتہ رفتہ سیاسی اثر و رسوخ بڑھاتے گئے۔ پلاسی (1757ء) اور بکسار (1764ء) کی جنگوں نے انگریزوں کی بنیاد مستحکم کر دی۔ رفتہ رفتہ پورا ہندوستان انگریزوں کے تسلط میں آگیا اور برصغیر غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔
شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا فتویٰ اور جہاد کی بنیاد:
جب انگریز مکمل طور پر اقتدار میں آ گئے تو حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (1746ء–1824ء) نے 1803ء میں یہ تاریخی فتویٰ دیا کہ: "ہندوستان دارالحرب ہے کیونکہ یہاں کا اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر انگریزوں کے ہاتھ میں جا چکا ہے۔”
یہ فتویٰ برصغیر کی تاریخ کا پہلا اعلان تھا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد فرض ہے۔ اس فتوے نے مسلمانوں کو بیدار کیا اور علماء نے انگریزوں کے خلاف عملی جدوجہد شروع کی۔
1857ء کی جنگِ آزادی اور علماء کی قربانیاںـ:
1857ء کی جنگِ آزادی دراصل وہ عظیم عوامی بغاوت تھی جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے لیکن اس تحریک کا فکری اور روحانی سرمایہ علماء تھے۔
ہزاروں علماء نے جہاد کا اعلان کیا:
دہلی، لکھنؤ، سہارنپور، مظفرنگر، شاملی اور دیگر علاقوں میں علماء نے براہِ راست قیادت سنبھالی۔
تقریباً 57,000 علما شہید کیے گئے ۔
انگریزوں نے دہلی، چاندنی چوک، شاملی اور دیگر شہروں میں عام پھانسیاں دیں تاکہ عوام کو ڈرایا جا سکے۔
یہ قربانیاں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک عظیم ورثہ ہیں لیکن افسوس کہ آج نصابی کتابوں میں ان کا ذکر نہیں۔
دارالعلوم دیوبند کا قیام (1866ء):
1857ء کی ناکامی کے بعد علماء نے یہ محسوس کیا کہ جب تک نئی نسل کو اسلامی تعلیم اور جذبۂ حریت سے آراستہ نہ کیا جائے، آزادی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اسی مقصد سے 30 مئی 1866ء کو دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔
اس کا بنیادی مقصد دین کی حفاظت اور آزادی کے لیے بیداری پیدا کرنا تھا۔
مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور دیگر اکابر نے اسے خالص دینی تعلیم کا مرکز بنایا۔
یہی دارالعلوم بعد میں تحریک آزادی کا فکری اور عملی قلعہ ثابت ہوا۔
شیخ الہند اور تحریک ریشمی رومال:
شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ۔ (1851ء،1920ء) دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور بعد میں شیخ الحدیث رہے۔ انہوں نے ہندوستان سے انگریزوں کو نکالنے کے لیے تحریک ریشمی رومال شروع کی۔
انہوں نے بیرونی دنیا (ترکی، افغانستان) کے حکمرانوں سے رابطہ کیا تاکہ انگریزوں کو نکالا جا سکے۔
اس سازش کا راز فاش ہوا تو انگریزوں نے انہیں مالٹا جیل بھیج دیا جہاں انہوں نے قید و صعوبتیں برداشت کیں۔
ان کی یہ جدوجہد ہندوستان کی آزادی کے عالمی پہلو کی نمائندہ تھی۔
جمعیۃ علماء ہند اور آزادی کی جدوجہد:
1920ء میں جمعیۃ علماء ہند قائم ہوئی جس نے متحدہ ہندوستان کے قیام، جمہوری ڈھانچے اور مذہبی آزادی کے لیے سیاسی جدوجہد کی۔
حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے "متحدہ قومیت” کا نظریہ پیش کیا کہ ہندوستان کے سب باشندے وطنی بنیاد پر ایک قوم ہیں۔
جمعیۃ نے آزادی کے لیے بے شمار تحریکیں چلائیں اور علماء کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔
آزادی کے بعد ہندوستان کا جمہوری آئین:
1947ء میں آزادی کے بعد جب آئین مرتب ہوا تو اس میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق کے طور پر شامل کیا گیا۔
ہر شہری کو مذہب قبول کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا پورا حق دیا گیا۔
یہ وہی مقصد تھا جس کے لیے علماء نے قربانیاں دیں۔
موجودہ حالتِ حاضرہ اور چیلنجز:
بدقسمتی سے آج ہندوستان میں وہی مذہبی آزادی خطرے میں پڑ رہی ہے۔
مسلم نوجوانوں کو بے بنیاد مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔
علما اور مبلغین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کشمیر ظلم و جبر کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ پلیٹ گن سے سینکڑوں نوجوان بینائی کھو بیٹھے ہیں۔
یوپی آسام کی صورت حال کسی سے مخفی نہیں ہے ۔
عالمی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کو بھی نشانہ بنایا گیا جو آئینی آزادی کے خلاف ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی قیادت میں حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم مظلوموں کی رہائی کے لیے قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ جدوجہد قوم کے ہر فرد کو سپورٹ کرنی چاہیے تاکہ انصاف بروقت مل سکے۔
الغرض ہندوستان کی آزادی علماء، عوام اور تمام طبقات کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم نے جمہوری اقدار، مذہبی آزادی اور انصاف کی حفاظت نہ کی تو یہ قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی۔
ہمیں ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے،
اور حال کے ظلم کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کرنی ہے،
تاکہ ہندوستان ایک بار پھر عدل، مساوات اور گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار بن سکے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے