कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آج کے دور میں اردو اخبارات اور اردو رسالوں کی اہمیت

تحریر:سید مستقیم سید منتظم
صدر مدرس ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول اندرا آواس بیودہ ضلع امراؤتی مہاراشٹر

اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب، ثقافت، اور فکری روایت کی مظہر ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے نہ صرف مختلف قوموں کو ایک دوسرے سے جوڑا بلکہ ان کے درمیان ربط و اتحاد کا ذریعہ بھی بنی۔ اردو نے اپنے آغاز ہی سے علم، ادب، سیاست، مذہب، اور معاشرت کے ہر شعبے میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس زبان کے فروغ اور بقا میں اردو اخبارات اور رسائل کا حصہ نہایت بنیادی اور قابلِ قدر رہا ہے۔ ان کی خدمات تاریخِ صحافت اور ادب کا ایک سنہرا باب ہیں۔
اردو اخبارات کی تاریخی اہمیت:
اردو اخبارات کی ابتدا انیسویں صدی کے اوائل میں ہوئی۔ "جامِ جہاں نما” 1822ءکو اردو کا پہلا اخبار مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد "دہلی اردو اخبار”، "اودھ پنچ”، "زمیندار”، "الہلال”، "البلاغ” اور دیگر اخبارات نے عوامی شعور بیدار کرنے اور سیاسی و سماجی اصلاح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تحریکِ آزادیِ ہند میں اردو اخبارات نے عوام میں سیاسی بیداری پیدا کی، ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی، اور اتحادِ ملت کا پیغام عام کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا "الہلال” اور "البلاغ” صرف اخبارات نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب تھے۔ ان کے ذریعے آزادی، خود داری، تعلیم اور ایمان کی روح عوام کے دلوں میں بیدار کی گئی۔
اردو صحافت کا ماضی یہ بتاتا ہے کہ اس نے ہمیشہ حق گوئی اور جراتِ اظہار کی روایت کو زندہ رکھا۔ چاہے برطانوی سامراج کی آمریت ہو یا آزادی کے بعد کی سیاسی بدعنوانی، اردو اخبارات نے ہمیشہ سچائی کو ترجیح دی اور عوام کی آواز بن کر ابھرے۔
اردو رسائل کی علمی و ادبی خدمات:
اردو رسائل نے علمی و ادبی دنیا میں بےمثال خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے تخلیقی ادب، تنقید، تحقیق، شاعری، افسانہ، ڈرامہ اور انشائیہ نگاری کے فروغ میں سنگِ میل کا کردار ادا کیا۔
’’اودھ پنچ‘‘ نے طنز و مزاح کی روایت کو مضبوط کیا، "نقوش” نے تحقیقی ادب کی آبیاری کی، "شب خون” نے جدیدیت کا رجحان متعارف کرایا، "ساقی” اور "ادبِ لطیف” نے شاعری و نثر دونوں کو نئی جہتیں دیں۔
ان رسائل نے نئے لکھنے والوں کو پلیٹ فارم دیا اور اردو ادب کو عالمی سطح پر روشناس کرایا۔ یہی رسائل تھے جنہوں نے فانی، جگر، فیض، ناصر کاظمی، انتظار حسین، اور احمد ندیم قاسمی جیسے ادیبوں و شاعروں کو متعارف کرایا۔
آج کے دور میں اردو صحافت کا منظرنامہ:
اکیسویں صدی میں میڈیا کی دنیا نے ڈیجیٹل انقلاب دیکھا ہے۔ آج اخبارات صرف کاغذ پر نہیں بلکہ اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اردو اخبارات و رسائل نے اس تبدیلی کو قبول کیا اور خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ اب "سیاست”، "انقلاب”، "منصف”، "رہنمائے دکن”، "روشن پاکستان” اور "ہندوستان ایکسپریس” جیسے اخبارات اپنے آن لائن ایڈیشن کے ذریعے پوری دنیا میں پڑھے جا رہے ہیں۔
اسی طرح ادبی رسائل نے بھی ڈیجیٹل شکل اختیار کر لی ہے، اور مختلف ویب سائٹس اور ای لائبریریز کے ذریعے اردو ادب عالمی سطح پر بآسانی دستیاب ہے۔
اردو اخبارات و رسائل کی سماجی و ثقافتی اہمیت:
اردو صحافت محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک بھی ہے۔ یہ معاشرے کی فکری رہنمائی کرتی ہے، تعلیم و تربیت کے اصول سکھاتی ہے، اور عوام میں مثبت سوچ پیدا کرتی ہے۔
اخبارات قوم کے شعور کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ان میں شائع ہونے والے مضامین، کالم، اداریے، اور رپورٹس عوامی رائے کو تشکیل دیتے ہیں۔
اسی طرح ادبی رسائل نئی تخلیقات کے ذریعے انسانی جذبات، سماجی مسائل، اور تہذیبی اقدار کی ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ زبان کو زندہ رکھتے ہیں اور نئی نسل کو اپنی لسانی میراث سے جوڑتے ہیں۔
اردو صحافت کو درپیش مسائل:
اردو اخبارات و رسائل کی اہمیت کے باوجود ان کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔ جدید دور میں انگریزی اور ہندی میڈیا کے غلبے نے اردو صحافت کو حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔
اردو میں اشتہارات کی کمی، قارئین کی محدود تعداد، اور مالی مسائل نے کئی پرانے اخبارات و رسائل کو بند ہونے پر مجبور کیا۔
اس کے علاوہ اردو بولنے اور پڑھنے والوں میں کمی، تعلیمی اداروں میں اردو تدریس کی کمزوری، اور نئی نسل کا ڈیجیٹل میڈیا کی طرف جھکاؤ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
اردو صحافت کے فروغ کی ضرورت:
اردو اخبارات و رسائل کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت، ادارے اور عوام مل کر اقدامات کریں۔
حکومت کو چاہیے کہ اردو اخبارات کو مالی مدد فراہم کرے، تعلیمی نصاب میں اردو صحافت کی تاریخ شامل کی جائے، اور نوجوانوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کیا جائے۔
اردو دان طبقہ خود بھی اپنی زبان کے اخبارات و رسائل کی خریداری اور مطالعہ کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔ اگر ہم اردو اخبارات کو نہیں پڑھیں گے تو یہ عظیم روایت معدوم ہو جائے گی۔
اردو اخبارات اور رسائل ہماری تہذیبی میراث اور فکری شناخت کا حصہ ہیں۔ یہ وہ آئینہ ہیں جن میں ہماری زبان، تاریخ، اور سماجی شعور جھلکتا ہے۔
موجودہ دور میں ان کی بقا اور ترقی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو زندہ رہے، تو ہمیں اردو صحافت کو مضبوط کرنا ہوگا۔
یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے اردو زبان اپنی شاندار روایت کے ساتھ آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے