कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’آج کی تاریخ‘‘ کالم: عبدالرحمن ابن عبدالستار کا ایک سالہ مسلسل سفر

ناندیڑ ؍بلڈھانہ:22؍مارچ (نمائندہ اعتبار) شہر ناندیڑ کے باصلاحیت نوجوان اور شعبۂ تدریس سے وابستہ معلم عبدالرحمن ابن عبدالستار (پی ایم شری ضلع پریشد اُردو اسکول، دیولگاؤں مہی (ضلع بلڈھانہ) نے صحافتی و تعلیمی میدان میں ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال سے مسلسل ’’آج کی تاریخ‘‘ کے عنوان سے روزانہ معلوماتی کالم لکھنے کا شاندار سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کی اس علمی و تحقیقی کاوش کو عوامی اور علمی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔عبدالرحمن ابن عبدالستارجو اس وقت تدریسی خدمات سے وابستہ ہیں، اس سے قبل کئی برسوں تک صحافت کے میدان میں بھی سرگرم رہے۔ صحافت کے تجربے اور مطالعہ کے شوق نے انہیں تاریخ کے اہم واقعات کو یکجا کرنے اور عام قارئین تک آسان انداز میں پہنچانے کا جذبہ عطا کیا۔ انہوں نے ’’اعتبار نیوز‘‘ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسا کالم شروع کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے قارئین میں مقبول ہوگیا۔’’آج کی تاریخ‘‘ کالم کی ایک بڑی خوبی اس کا تنوع اور جامعیت ہے۔ اس میں دنیا بھر کے اہم تاریخی واقعات، اسلامی تاریخ،سائنسی ، ادبی شخصیات و مشاہیر کی پیدائش و وفات، سیاسی و سماجی تبدیلیاں اور عالمی سطح کے اہم واقعات کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔جس سے قاری کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر لیتا ہے۔ ان کے اس کالم نے نئی نسل میں تاریخ سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر طلبہ و اساتذہ، مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والوں اور عام قارئین کے لیے یہ کالم معلومات کا ایک قیمتی ذریعہ بن چکا ہے، جہاں وہ روزانہ دلچسپ اور مستند معلومات حاصل کرتے ہیں۔ خصوصاً موجودہ دور میں جب سوشل میڈیا پر غیر مستند معلومات کا سیلاب ہے، ایسے میں مستند اور تحقیقی مواد کی اشاعت ایک بڑی خدمت ہے۔ایک سال تک بغیر کسی ناغہ کے روزانہ کالم لکھنا نہ صرف محنت طلب کام ہے بلکہ اس کے لیے مستقل مزاجی، مضبوط ارادہ، وقت کی بہترین منصوبہ بندی ، تحقیق اور تاریخ پر گہری نظر بھی ضروری ہوتی ہے۔ عبدالرحمن ابن عبدالستار نے ان تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جذبہ سچا ہو تو تدریسی مصروفیات کے باوجود علمی خدمات انجام دی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں کئی برسوں تک صحافت سے وابستہ رہنے کے باعث انہیں خبروں کی اہمیت، تحقیق کے اصول اور قارئین کی دلچسپی کا بخوبی اندازہ ہے،جسے انہوں نے اپنے اس کالم میں نہایت عمدگی کے ساتھ بروئے کار لایا۔
واضح رہے کہ معلم اور صحافی عبدالرحمن ابن عبدالستار کی شخصیت ہمہ جہت خوبیوں کی حامل ہے۔ وہ نہ صرف ایک ذمہ دار استاد ہیں بلکہ ایک سنجیدہ قلمکارکے طور پر بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بنیادی مقصد علم کا فروغ اور نئی نسل کی فکری رہنمائی ہے، جس کے لیے وہ مسلسل کوشاں نظر آتے ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ نوجوان نسل علم، تحقیق اور مثبت سوچ کے ذریعے اپنے مستقبل کو روشن بنائے۔عبدالرحمن ابن عبدالستار نے اپنی ابتدائی زندگی ہی سے مطالعہ اور تحریر کو اپنا شوق بنایا۔ تاریخ، اسلامیات، عالمی حالات اور سماجی موضوعات پر ان کی گہری نظر ہے۔ اسی بناء پر ان کی تحریروں میں معلومات کے ساتھ ساتھ سنجیدگی اور توازن بھی پایا جاتا ہے۔ وہ کسی بھی موضوع کو محض بیان نہیں کرتے بلکہ اس کے پس منظر اور اہمیت کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں جو ایک اچھے صحافی اور معلم کی پہچان ہوتی ہے۔
صحافت کے میدان میں ان کا سفر کئی سالوں پر محیط رہا ہے، جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر خبریں، مضامین اور تجزیے تحریر کیے۔ بطور معلم بھی عبدالرحمن ابن عبدالستار طلبہ کے درمیان بے حد مقبول ہیں۔ وہ محض نصابی تعلیم تک محدود نہیں رہتے بلکہ طلبہ میں مطالعہ کا شوق، سوال کرنے کی عادت اور تاریخ سے جڑنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔سماجی سطح پر بھی عبدالرحمن ابن عبدالستار ایک بیدار ذہن رکھتے ہیں۔ ان کے قریبی حلقے کے مطابق عبدالرحمن ابن عبدالستار نہایت سادہ مزاج، خوش اخلاق اور ملنسار انسان ہیں، جو ہر وقت سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کی یہی خصوصیات انہیں ایک کامیاب معلم اور بااثر قلمکار بناتی ہیں۔
عبدالرحمن ابن عبدالستار کی زندگی کا ایک اہم پہلو اِن کی سماجی و تنظیمی وابستگی بھی رہی ہے۔ وہ ماضی میں طلبہ کی معروف تنظیم Students Islamic Organisation of India (ایس آئی او) سے وابستہ رہے، جہاں انہوں نے طلبہ کی فکری و تعلیمی رہنمائی کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے، تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے میں حصہ لیا۔اسی طرح وہ جماعت اسلامی ہند سے بھی وابستہ رہے ہیں، جو ایک فکری، سماجی اور اصلاحی تنظیم کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس وابستگی نے ان کی شخصیت میں سنجیدگی، نظم و ضبط، خدمتِ خلق کا جذبہ اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس مزید مضبوط کیا، جس کا اثر آج بھی ان کی تحریروں اور تدریسی خدمات میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
صحافت کے میدان میں کئی سال سرگرم رہنے کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبہ سے وابستگی اختیار کی، تاہم ان کا قلم آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ ’’اعتبار نیوز‘‘ میں ان کا روزانہ شائع ہونے والا کالم ’’آج کی تاریخ‘‘ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ علمی خدمات کو اپنی زندگی کا مشن سمجھتے ہیں۔عبدالرحمن ابن عبدالستار کی شخصیت ان نوجوانوں کے لیے ایک بہترین مثال ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی اور فکری میدان میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اگر انسان کے اندر سیکھنے، سکھانے اور معاشرے کی خدمت کا جذبہ ہو تو وہ بیک وقت کئی میدانوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔شہر ناندیڑ کے معززین، اساتذہ اور صحافتی حلقوں نے عبدالرحمن ابن عبدالستار کی اس مسلسل اور کامیاب کاوش پر انہیں مبارکباد پیش کی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح اپنی علمی و صحافتی خدمات جاری رکھتے ہوئے نئی نسل کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے