कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آج بھی جو ابراہیم کا ایماں پیدا

اسلام کی دو عیدوں میں ایک ’عید قرباں‘ ہے جو ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو سارے عالم میں نہایت اہتمام سے منائی جاتی ہے یہ عربی ترکیب پر عیدالاضحٰی، فارسی ترکیب پر عید ضحی اور اردو میں بقرعید یا عید قرباں کے نام سے موسوم او ر خدائے تعالیٰ کے دو برگزیدہ بندوں حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہم السلام کی یادگار ہے تاریخ عالم کی ان دو عظیم ہستیوں نے جو قربانی پیش کی وہ تاریخ کا ایک مثالی و ممتاز واقعہ ہے۔
اسی سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے حضورِ قلب سے جو قربانی پیش کی جاتی ہے اس کا مطمحِ نظر صرف جانوروں کا ذبیحہ نہیں بلکہ اس کے توسط سے عالم انسانیت میں جذبۂ قربانی کو ابھارنا ہے۔
قربانی کیا ہے؟ صرف اپنی محبوب اشیاء کو رضائے خداوندی کیلئے نچھاور کردیناً کبھی اس سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال ومتاع کی قربانی مقصود ہوتا ہے کبھی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اپنی دوسری متعلقہ چیزوں کو اللہ کی راہ میں صرف کردیا جائے اور کبھی اپنی محبوب جان، خدا کی راہ میں طلب کرلی جاتی ہے۔ اسی طرح حکمِ خداوندی میں مزاحم ہونے والی طاقتوں اور باطل کوششوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوجانا، احکام کی اشاعت کے لئے اپنی جملہ صلاحیتوں کو جھونک دینا اور اس راہ کے مصائب او ر آزمائشوں کو برداشت کرتے ہوئے امتحانِ داد ورسن تک سے گزر جانا یہ سب قربانی کے وسیع تر مفہوم میں داخل ہیں۔ ایسے تمام تر مواقع پر حقِ قربانی ادا کرنے کو کسی اور پر یا خود اپنے لئے ظلم وجبر سے تعبیر کرنا بذاتِ خود ایک ظلم وجہالت ہے۔
قربانی ! انسانی تاریخ اور مذاہب کا ایک روشن باب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مذہب کی تاریخ میں قربانی کے واقعات کو دیکھا و پرکھا جاسکتا ہے مگر اسلام تو ایثار وقربانی کا ہی دوسرا نام ہے اس کی تاریخ قربانی کے مثالی واقعات سے پر ہے۔
اسلامی کلنڈر کے پہلے ماہ یعنی محرام الحرام میں جہاں حضرت امام حسین ؓ کی عظیم قربانی کی یاد تازہ ہوتی ہے وہیں آخری ماہ ذی الحجہ میں حضرت ابراہیم واسماعیل علیہم السلام کی عدیم النظیر قربانی بدن میں دوڑنے والے خون کو گرمادیتی ہے۔ حق کی حمایت ومدد کے جس جذبہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا تھا اسی جذبہ نے پیغمبر اسلام کے چہیتے نو اسے کو میدانِ کربلا میں بحالتِ سجدہ جام شہادت نوش کرنے پر آمادہ کیا اور اس طرح ثابت ہوگیا کہ   ؎
نہ مسجد میں نہ بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میں
نماز عشق ہوتی ہے ادا تلواروں کے سائے میں
اسلامی تاریخ کے صفحات میں اس طرح کی ہزاروں قربانیوں اور جاں فروشیوں کے واقعات محفوظ ہیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کا نذرانہ اس جوش وولولہ سے پیش کیا کہ سید الشہداء کہلائے ان کے علاوہ ہزاروں مہاجرین وانصاری کی پرخلوص قربانیاں جن کو پیش کرکے بھی وہ یہی کہتے رہے کہ    ؎
جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
ان قربانیوں کے پسِ پشت جو جذبۂ خلوص وللہیت کام کررہا تھا وہ خدا کے نزدیک اتنا پسندیدہ ومقبول ہوا کہ اس نے ان آزمائشوں سے استقامت، رضا اور صبر کے ساتھ گزر جانے والوں کے اسوۂ حسنہ کو عامۃ الناس کے لئے نمونہ عمل بنادیا۔ انہیں خاصانِ خدا میں ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جن کی عظیم قربانیوں کے بیان سے آسمانی کتابیں توریت، انجیل اور قرآن کریم بھرے ہوئے ہیں خصوصاً قرآن پاک کی ۲۵ سورتوں کی ۶۳ آیات ان کا ذکر موجود ہے۔ اور یہی وہ اولوالعزم اور برگزیدہ نبی، جلیل القدر پیغمبر اور موجدِ اعظم ہیں جن کی عزت واحترام مسلمان ہی نہیں یہود ونصاریٰ بھی کرتے ہیں اور یہی وہ پہلی ہستی ہیں جنہیں راہِ عزیمت میں زبردست امتحانات سے گزرنا پڑا اور اس میں وہ کامیاب وسرخرو ہوکر مرتبہ خلیل تک پہونچے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی آزمائش یہ تھی بادشاہ وقت نمرود نے ابلاغ حق کے جرم میں انہیں ایک ماہ تک جمع کی ہوئی خشک لکڑیوں کی دہکتی آگ کے ساٹھ گز بلند شعلوں میں جھونک دیا مگر جنونِ عشق کہ ان کے پایۂ استقلال میں معمولی لرزش بھی نہیں ہوئی اور عشقِ حقیقی میں انہوں نے اپنے آپ کو نذر آتش کردیا    ؎
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
پھر دنیا نے وہ منظر دیکھا کہ جلا کر خاکستر کردینے والے آگ کے شعلے بھی ان کے حق میں ’’برداًوسلاماً‘‘ بن گئے۔ دوسری آزمائش کی گھڑی وہ تھی جبکہ امتثالِ امر الٰہی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے کم سن واکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان  کی والدہ حضرت ہاجرہ کو فاران کے ریگستان اور بے آب وگیاہ میدان میں چھوڑ کر آنا  پڑا تھا او ر وہ محض ا س لئے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھ سکے کہ کہیں شفقتِ پدری جوش نہ مارنے لگے ، بہر حال ان کی قربانی رنگ لائی اور قیامت تک کے لئے یہ مقام معزز ومحترم قرار دے دیا گیا۔
مذکورہ دونوں امتحانوں سے گزر کر تیسری آزمائش اور بھی زیادہ سخت اور جاں گسل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام تین شب تک مسلسل یہ خواب دیکھتے رہے کہ وہ اپنے آرزوئوں وتمنائوں کے مرکز اکلوتے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے قربان کررہے ہیں انبیاء علیہ السلام کا خواب جو وحی الٰہی کا درجہ رکھتا ہے حضرت ابراہیم نے یہ پیکر تسلیم ورضا بن کر اپنے بیٹے کو سنایا اور اسے سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جن کے لئے ذبیح اللہ کا شرف مقسوم ہوچکا تھا برملا جواب دیا کہ ’اے میرے باپ اگر خدا کا یہی حکم ہے تو پورا کیجئے انشاء اللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے‘ لہذا مروہ پہاڑی پر پہونچ کر باپ اپنے لختِ جگر کو جانوروں کی طرح باندھ کر زمین پر پچھاڑ دیتا ہے اور گلے پر بار بار چھری پھیرنے پر بھی جب وہ نہیں چلتی تو فرمانبردار بیٹا کہتا ہے جلدی کیجئے کہیں اس تاخیر سے ہمارا رب ہم سے ناراض نہ ہوجائے‘‘    ؎
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کوآدابِ فرزندی
آسمان وزمین نے اس منظر کو نہایت حیرت سے دیکھا اور باپ وبیٹے کے خلوص وللہیت نے رحمتِ خداوندی کو اس قدر موجز کردیا کہ فوراً وحی الٰہی نازل ہوئی۔
’’اے ابراہیم! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا بے شک یہ نہایت سخت ومشکل مرحلہ تھا اب بجائے بیٹے کے پاس کھڑے مینڈھے کو ذبح کیجئے ہم نیکو کاروں کو اسی طرح نوازا کرتے ہیں۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ قربانی صرف گوشت وخون کی قربانی نہیں صحیح معنوں میں روح ودل کی قربانی تھی، اللہ کے سوا ہر چیز کی قربانی نیز اپنے جذبات وخواہشات کی بھی قربانی تھی۔ یہ قربانی اللہ کے نزدیک اس قدر محبوب ہوئی کہ بطور یادگار ہمیشہ اللہ کے لئے ملت ابراہیمی کا شکار قرار پائی اور آج بھی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو سارے عالم میں یہ شعار اسی طرح منایا جاتا ہے اور حج کے موقع پر ادا کیا جانے والا ایک ایک عمل اور ایک ایک حرکت سے قرآن مجید کے اس دعوت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے کہ اس مقام اور اس گھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی متعدد یادگار نشانیاں ہیں۔
موحد اعظم حضرت ابراہیم ؑ کے ایثار وقربانی کے یہ حیرت انگیز واقعات درحقیقت ہمت واستقلال کا ایسا لازوال سبق ہیں جو قیامت تک نوعِ انسانی کے لئے نشانِ راہ کا کام دیں گے اور مخالفتوں کے ہجوم میں جو یائے حق کیلئے یاس وناامیدی سے محفوظ رہنے کا سہارا بنیں گے او ر ناکامیوں کے تلخ تجربوں کے باوجود کامیابی کی بشارت سنائیں گے اوراس ملت کے ذہن ودماغ کے ایک ایک گوشے میں یہ یقین پیدا کریں گے کہ حق کی آواز باطل کے شور میں دب نہیں سکتی بلکہ ہر قسم کی بے سرومانی کے باوجود آخر کار اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ اس راہ میں کانٹوں کے بستر پر سونا پڑتا ہے، تلوار کی دھار پر چلنا پڑتا ہے۔ اپنے کلیجہ کو تیروں سے چھلنی کرنا پڑتا ہے اور نیزوں کی انی اپنے دل میں پیوست کرنی پڑتی ہے اس راہ میں یہ کٹھن منزلیں پیش آتی ہیں جس کے بعد ہی کامیابی اس کے قدم چومتی ہے ۔ کامرانی اس پر نثار ہوتی ہے اور زمانہ کی با گ وڈور اس کے ہاتھوں میں آجاتی ہے۔ صرف ضرورت ہے براہمی نظر اور اسماعیلی صبر پیدا کرنے کی   ؎
آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
لیکن     ؎
براہیمی نظر پیدا ذرا مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے گھر اپنا
www.arifaziz.in
E-mail:arifazizbpl@rediffmail.com
Mob.09425673760
Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے